True Story سچئ حکایت

انوکھی سزا

ایک چڑیا اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے۔ دور سے ایک انسان آتا دیکھائی دیا۔ چڑیا نے چڑے سے کہا کہ اُڑ جاتے ہیں کہیں یہ ھمیں مارنہ دے۔
چڑا کہنے لگا کہ بھلی مانس دیکھو ذرا اسکی دستار، اس کاپہناوا، اس کی شکل سے بھی شرافت ٹپک رھی ھے یہ ھمیں کیوں مارے گا۔
جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا کو مار دیا.
چڑیا فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ھو گئی۔ شکاری کو طلب کیا گیا۔ شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ نے چڑیا کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چایے سزا دے۔
چڑیا نے کہا کہ اسکو حکم دیا جاۓ کہ!!
اگر یہ شکاری ھے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔ شرافت کا لبادہ اتار دے۔
نصیحت:اس کہانی سے حضرت سعدی نے یہ سبق دیا ہے کہ آدمی جیسا ہے ویسا ہی نظر آنا چاہیے. یہ دھوکا اور فریب کی بدترین شکل ہے کہ آدمی لباس کچھ زیب تن کرے اور کام اس سے الگ کرے.

حکایت مولانا روم۔

English Trandlation

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Create your website at WordPress.com
Get started
%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close