Bhutto and Faqeer

#ذوالفقارعلی_بھٹو_کادوست #گدھے_والافقیر

لاڑکانہ  کے پرانے لوگوں کو آج بھی ذوالفقار علی بھٹو اور ایک درویش صفت فقیر شخص جمعہ فقیر کی دوستی یاد ہوگی۔ یہ واحد شخص تھا جو بھٹو صاحب سے مذاق بھی کرتا تھا اور طنزیہ جملے بھی کس دیتا تھا ۔
جمعہ فقیر  ذات کا سومرو اور تعلقہ قمبر کے ایک گاؤں کور سلیمان کا  تھا، مگر قمبر چھوڑ کر لاڑکانہ میں رہنے لگا تھا ۔  اکثر لاڑکانہ کی گلیوں اور رستوں پر اپنے گدھے کے ساتھہ نظر آتا تھا۔ جمعہ فقیر کا یہ معمول تھا کہ وہ روزانہ گوشت مارکیٹ جاتا اور وہاں کے تمام ذبح کئے گئے جانوروں کی باقیات اپنے گدھے کے گودھڑوں میں ڈالتا اور پھر لاڑکانہ کے آوارہ کتوں کو وہ یہ چھیچھڑے اور باقیات کھلاتا اس طرح وہ کتے بھی جمعہ فقیر کے گرویدہ ہوگئے تھے ،  فقیر جہاں  جاتا اس کے پیچھے پیچھے چلتے تھے ۔
ذوالفقار قادری لکھتے ہیں کہ ایک بار میں نے اسے ایک چائے کا کپ دیا تو کہنے لگا ۔ ’’کس خوشی میں چائے پلا رہے ہو؟‘‘  تو قادری صاحب نے کہا کہ ’’ فقیر! امام کی سبیل ہے ‘‘ تو جمعہ فقیر نے کہا ’’ اماموں سے کیسا حساب ، لا دے ‘‘۔ اپنی دھن میں مگن فقیر کی باتیں صوفیانہ رنگ میں رنگی ہوتی تھیں ایسی گفتار عام آدمی سے ممکن نہیں  ہوتی۔
ذوالفقار علی بھٹو سے ان کی دوستی کا تعلق اس وقت قائم ہوا جب بھٹو صاحب وزیر خارجہ تھے ۔ جمعہ فقیر  خود چل کے المرتضیٰ نہیں گیا تھا بلکہ بھٹو  خود چل کر اس فقیر کو دوست بنانے کےلئے اس کے پاس گیا تھا۔
قصہ کچھہ یوں تھا کہ کسی نے بھٹو صاحب سے کہا کہ لاڑکانہ شہر میں ایک فقیر ایسا ہے جس کی باتوں میں کمال کی دانائی چھپی ہے تو بھٹو صاحب کو بہت تجسس ہوا اور انہوں نے فقیر کو اپنے گھر لانے کیلئے اپنے کارندوں کو بھیجا۔ جب کارندوں نے اسے کہا کہ بھٹو صاحب آپ کو بلا رہے ہیں تو اس نے کہا کہ میں کوئی بھٹو کا نوکر ہوں جاؤ میں نہیں جاتا ان کے پاس ۔ بھٹو صاحب کو جب نوکروں نے بتایا کہ وہ ایسا کہہ رہا ہے تو بھٹو صاحب اسی وقت گاڑی میں بیٹھہ کر جمعہ فقیر سے ملنے نکل کھڑے ہوئے۔

جمعہ فقیر  بھٹو کو کینیڈی مارکیٹ میں ایک پیپل کے درخت کے نیچے اپنے گدھے کو گھاس کھلانے میں مشغول ملا ۔ بھٹو صاحب گاڑی سے نیچے اترے اور فقیر کے پاس پہنچے۔ فقیر نے دیکھتے ہی کہا ’’ بھٹو کیسے بھول پڑے ہو ؟ ‘‘تو بھٹو صاحب نے جواب دیا کہ’’ فقیر ،حاضری کیلئے آیا ہوں‘‘ فقیر نے جواب دیا کہ میں کوئی استادِ ہوں جو حاضری بھرنے میرے پاس آئے ہو ؟ بھٹو صاحب نے کہا۔ چلیں یار دوستی کر لیتے ہیں۔ جمعہ فقیر نے کہا۔ دوستی رکھنا آسان ہے نبھانا بہت مشکل ہے۔ اس یر بھٹو صاحب نے کہا تم دوستی رکھہ کر تو دیکھو ۔ باقی تم مرضی کے مالک ہو ۔ اپنے گدھے کے ساتھہ بیٹھے جمعہ فقیر نے کہا کہ میرے در پر چل کے آئے ہو، یوں خالی ہاتھہ لوٹانا مناسب نہیں اور اس طرح گلیوں میں گھومنے والے  اس فقیر کی ذوالفقار علی بھٹو سے دوستی ہوگئی ۔
جمعہ فقیر سے بھٹو کبھی کبھار وقت نکال کر ملنے آتا رہا اور یوں دونوں کی دوستی پروان چڑھنے لگی ۔ جب بھٹو صاحب پاکستان کے وزیراعظم بنے تو المرتضیٰ کو وزیراعظم ہاؤس کا درجہ دے دیا گیا ۔ وزیراعظم بننے کے بعد بھٹو فقیر سے ملنے آیا اور فقیر سے کہا میرے حق میں دعا کرو ۔ فقیر نے کہا ’’لگتا ہے وزیراعظم بن کر خوش ( مطمٔن ) نہیں ہو ۔ چلو  پھر یہ  کرتے ہیں تم میرے گدھے پر بیٹھہ کر جمعہ بنو، میں بھٹو بنتا ہوں.‘‘بھٹو نے کہا ’’مجھے منظور ہے مجھے اپنا گدھا دو ‘‘  کئی وزیر مشیر بھی ساتھہ تھے جو یہ ساری گفتگو سن رہے تھے.
اچانک فقیر نے کہا ’’ بھٹو ! میں تجھے اپنا گدھا نہیں دوں گا میرے پاس بس یہ ایک ہی گدھا ہے تمہارے پاس پہلے سے ہی بہت گدھے موجود ہیں ‘‘. پہلے انہیں تو سنبھال لو یہ سنتے ہی بھٹو صاحب کی بے اختیار ہنسی نکل گئی اور ہنستے ہنستے دوہرے ہوگئے اس وقت وہاں موجود سارے افسران کے چہرے دیکھنے کے قابل تھے۔

بھٹو صاحب وزیراعظم بننے کے بعد جب بھی لاڑکانہ آتے وقت نکال فقیر سے ملنے ضرور آتے ۔جمعہ فقیر کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا۔ بس بھٹو صاحب پتہ کرتے کہ فقیر کہاں ملے گا وہاں پہنچتے اور گھڑی بھر ملتے ضرور تھے ۔ جمعہ فقیر کا آخری ٹھکانہ قبرستان میں بنی ایک جھونپڑی تھی بھٹو نے فقیر سے کہا تمہیں گھر بنوا کر دیتا ہوں فقیر بہت جلال میں آگیا اور کہنے لگا آج بول دیا ہے آئندہ بولا تو تمہاری میری یاری ختم ۔
ایک بار بھٹو صاحب موئن جو دڑو کے ائرپورٹ پر اترتے ہی بولے کہ جمعہ فقیر سے ملنا ہے پروٹوکول والے وہ روٹ لیں جہاں جمعہ فقیر کے ملنے کے امکانات ہوں قافلہ چلا اور بلآخر جمعہ فقیر باقرانی روڈ پر اپنے گدھے کے ساتھ نظر آگیا ۔ بھٹو صاحب اس سے ملے اور کہا فقیر آج رات کا کھانا میرے ساتھہ کھاؤ فقیر بولا ایک شرط پر کھانا ہم دونوں اکیلے میں کھائیں گے بھٹو نے پوچھا وہ کیوں ؟ فقیر بولا یہ جو تمہارے آدمی ساتھہ ہوتے ہیں بڑے بھوکے ہیں سارا یہ کھا لیں گے اور ہم دونوں کے حصے میں ہڈیاں ہی آئیں گی۔ بھٹو نے یہ بات سنتے ہی قہقہہ لگایا اور بولے آپ کی شرط منظور ہے تو فقیر نے کہا ایک اور بھی شرط ہے ، سستے میں جان نہیں چھوٹے گی ، تم اور میں کھانا کھائیں ،لیکن میرے گدھے نے کیا قصور کیا ہے۔ کیا اس کا پیٹ نہیں ہے؟ بھٹو نے کہا منظور ہے فقیر منظور ہے ۔
دعوت سے ایک گھنٹہ پہلے بھٹو صاحب نے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ خالد احمد کھرل اور ایس پی محمد پنجل جونیجو کو احکامات دئیے کہ جمعہ فقیر کو المرتضیٰ لایا جائے ۔ ڈپٹی کمشنر اور ایس پی نے ڈی ایس پی عنایت اللہ شاہانی سے کہا کہ جمعہ فقیر کو ڈھونڈو اور اسے پروٹوکول میں المرتضیٰ لیکر آؤ جب ڈی ایس پی جمعہ فقیر کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے تو فقیر نے اکیلے جانے سے انکار کردیا اور کہنے لگا ، ہم دونوں کی دعوت ہے ورنہ جاؤ میں نہیں چلتا افسران بہت پریشان ہوگئے اور یہ بات بھٹو تک پہنچ گئی جس پر بھٹو صاحب نے کہا جیسا جمعہ فقیر بولتا ہے ویسے ہی کیا جائے اور اس طرح جمعہ فقیر نے بھٹو صاحب کے ساتھہ اکیلے میں دعوت کھائی اور اپنے گدھے کو بھی خوب گھاس کھلائی
لاڑکانہ کے اس درویش فقیر نے 1990 مین فقیر درویش دنیا سے رخصت ہو گیا۔

Translation
Zulfiqar Ali_Bhutto_Kadost # donkeys

Old people of Larkana will still remember the friendship of Zulfiqar Ali Bhutto and Juma Faqir, a dervishes. He was the only person who used to make fun of Bhutto and make sarcastic remarks.
Juma Faqir belonged to Soomro of Faqir caste and Kaur Suleiman, a village in Taluka Qambar, but left Qambar and started living in Larkana. He was often seen on the streets of Larkana with his donkey. It was the custom of Juma Faqir to go to the meat market every day and put the remains of all the slaughtered animals there in the donkeys of his donkeys and then he would feed these straws and the remains to the stray dogs of Larkana. The poor used to follow him wherever he went.
Zulfiqar Qadri writes that once I gave him a cup of tea and he started saying. “In what joy are you drinking tea?” Then Qadri Sahib said, “Poor! There is a way for the Imam. ”So Juma Faqir said,“ How can you give an account to the Imams? ” The words of Faqir, who was engrossed in his songs, were colored in a mystical tone. Such a speech is not possible with a common man.
His friendship with Zulfiqar Ali Bhutto was established when Bhutto was the Foreign Minister. Juma Faqir himself did not go to Murtaza on foot but Bhutto himself went to him to make him a friend.
The story was that someone told Bhutto Sahib that there was a faqir in Larkana whose words were full of wisdom, so Bhutto Sahib became very curious and he sent his servants to bring Faqir to his house. When the workers told him that Bhutto was calling you, he said, “I am Bhutto’s servant. Go, I will not go to him.” When the servants told Bhutto that he was saying this, Bhutto got in his car and went out to meet Juma Faqir.

On Friday, Faqir Bhutto was found feeding his donkey under a poplar tree in Kennedy Market. Bhutto got out of the car and reached Faqir. Seeing this, Faqir said, “How could Bhutto have forgotten?” Bhutto replied, “Faqir, I have come to attend.” Faqir replied, “Am I a teacher who has come to me to attend?” Mr. Bhutto said. Let’s make friends. Juma Faqir said. It’s easy to make friends, it’s hard to keep up. Mr. Bhutto said, “Keep friendship and see.” The rest is up to you. Juma Faqir, who was sitting with his donkey, said that if he had come to my door, it would not have been appropriate for him to return empty-handed.
Bhutto used to visit Juma Faqir from time to time and thus their friendship began to grow. When Bhutto became the Prime Minister of Pakistan, Murtaza was given the status of Prime Minister’s House. After becoming the Prime Minister, Bhutto came to meet Faqir and told him to pray for me. Faqir said, “It seems that he is not happy to be the Prime Minister. Let’s do this again. You sit on my donkey and become a Friday. I will become Bhutto. “Bhutto said,” I approve. Give me your donkey. “Several ministerial advisers were also present who were listening to this whole conversation.
Suddenly Faqir said, “Bhutto! I will not give you my donkey. I have only one donkey. You already have a lot of donkeys. Take care of them first. As soon as he heard this, Bhutto’s helpless laughter came out and he laughed and doubled over. At that time, he was able to see the faces of all the officers present there.

After Bhutto became the Prime Minister, whenever he came to Larkana, he would definitely come out to meet Faqir. Juma Faqir had no permanent abode. Bhutto would just know where to find the poor, he would reach there and meet for an hour. On Friday, Faqir’s last resting place was a hut built in the graveyard. Bhutto said to Faqir, “I will build a house for you.”
Once Bhutto Sahib Moin, who was landing at Daro airport, said that he had to meet Juma Faqir. Those with protocol should take the route where Juma Faqir is likely to meet. Bhutto Sahib met him and said, “Faqir, eat dinner with me.” Faqir said, “We will eat alone on one condition.” Bhutto asked, “Why that?” The poor man said, “The men who are with you are very hungry. They will eat it all, and the bones will come to both of us.” Bhutto laughed as soon as he heard this and said that his condition has been accepted. Faqir said that there is another condition, you will not lose your life cheaply, you and I should eat, but what has my donkey done wrong? Doesn’t he have a stomach? Bhutto said it is acceptable, Faqir is acceptable.
An hour before the invitation, Bhutto ordered the then Deputy Commissioner Larkana Khalid Ahmed Kharal and SP Muhammad Panjal Junejo to bring Murtaza on Friday. Deputy Commissioner and SP told DSP Inayatullah Shahani to find Juma Faqir and bring him to Murtaza in protocol. When DSP Juma Faqir managed to find him, Faqir refused to go alone and said, “We Both of them have an invitation, otherwise I will not go. The officers became very upset and this matter reached Bhutto. He also fed his donkey well
This Darwish Faqir of Larkana made. In 1990 that faqir died.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Create your website at WordPress.com
Get started
%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close