کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں؛
جواب شکوہ بند نمبر 14
کون ہے تارک آئینِ رسول مختار؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟
ہو گئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بیزار؟
قلب میں سوز نہیں؛ روح میں احساس نہیں؛
کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں؛
چند مشکل الفاظ کے معانی مطالعہ فرمائیں
الفاظ۔۔۔۔۔ معانی
تارک۔۔۔ ترک کرنے والا۔۔۔ ترک کا معنی چھوڑنا
آئین رسول مختار۔۔۔ رسول پاک کا دستور یعنی شریعت و سنت
مصلحت۔۔۔ مفاد
معیار۔۔۔ کسوٹی
شعار اغیار۔۔۔ غیروں کے طور طریقے
نگہ۔۔۔ سوچ۔فکر
طرزِ سلف۔۔۔ اسلاف کا طرزِ عمل
بیزار۔۔۔ بدظن
قلب۔۔۔ دل
سوز۔۔۔ درد کی حرارت
پیغام محمد۔۔۔۔ میسج آف محمد یعنی دین اسلام
مختصر تشریح
جواب شکوہ کے اس بند میں حکیم العصر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ پیغام دے رہے ہیں کہ اللّٰہ عصر حاضر کے مسلمانوں سے فرما رہا ہے کہ
اے مسلمانو!… آج دنیا میں تمھارے سوا اور کون ہے؟ جس نے کلمہ پڑھنے کے باوجود اپنے رسول کے دستور حیات یعنی سنت نبوی کو چھوڑ رکھا ہے؟
آج تمھارے سوا اور کون ہے؟ جس نے مصلحت وقت یعنی خود غرضی اور مفاد پرستی کو اپنا معیار اور لائف سٹائل بنا رکھا ہے؟ ایک مرد مومن تو زندگی کے ہر قدم اور ہر موڑ پر یہ دیکھتا ہے کہ میرے محبوب رب کی رضا اور میرے پیارے رسول کی سنت کیا ہے مگر آج تم کیسے مسلمان ہو کہ ہر معاملے میں صرف ذاتی غرض اور دنوی مفاد کو مدنظر رکھتے ہو؛
اے مسلمانو!…. آج کس کی آنکھوں میں شعار اغیار۔۔۔ یعنی انگریزوں کے طور طریقے میرے احکام اور میرے رسول کی سنتوں سے زیادہ پیارے ہو چکے ہیں؟
آج کس کی نگاہ یعنی سوچ اور فکر اپنے اسلاف کے طرزِ فکر و عمل سے بدظن اور بیزار ہو چکی ہے؟ اور وہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے مغربی تہذیب کی چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہا ہے؟
مسلمانو!…. آج تمھارے دل اللّٰہ اور اس کے رسول کی محبت کے سوز سے خالی ہیں۔۔۔ اور روح میں اس عظیم نقصان کا احساس تک نہیں ہے؛ کہ تم دین و ایمان کی دولت لٹا کر اپنے رسول کے مشن اور پیغام کو فراموش کر چکے ہو؛ واہ ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا کارواں کےدل سےاحساس زیاں جاتا رہا (بزمِ اقبال)